Taqreer

Published on Sep 05, 2026

Taqreer

Taqreer - PDF to Flipbook

Published on Sep 05, 2026

Description:

!السالم علیکم ورحمۃ ہللا وبرکاتہ ال َّر ِحيمِ ال َّر ْح ٰم ِن ب ِهللا ِ ْسمِ َو َمْواَل ال َسِّيِدَنا َنا ْقُ ْرآ َن ُخ ، لُقُ ُه َك َعل َم ْن ا َن َ ٰى َوال َّساَل َوال َّص ُم اَل لِ ةُ ِإْل ز ْن َسا ِن، ِ ز َو ُح ْس َن اْل ُخلُ ِق يَن ًة ِ َياَدًة َوال ، ُّش ْك ال َجَع َل ال َّصْب َر ِضَيا ًء، َر َّهَّلِل ِذي هَّلِل ال ِ ْ َح ْمُد !َأ َب ْعُد َأ َّما َأ َوَأ ْج َمِعي َن۔ َأ ْص َحابِ َو َعل آلِ ِه ِه َ ٰى َر ُسو ِل ِهللا، ُم َح َّمٍد ال َّر ِجيمِ ال ۔ َّشْي َطا ِن ب ِمَن ِ َأ ا ِهلل َأ ُعوذُ َ:و َر ُسو ُل ِهللاصلى الله عليه وسلم َقا َل هللاُ اْل َع ِظي ُم۔ َصَد َق َع ِظيمٍ۔ ُخلُ ٍق لَ َعلَ ٰى َوِإنَّ َك ال َّر ِحيمِ ال َّر ْح ۔ ٰم ِن ب ِهللا ِ ْسمِ ا َأْل ْخاَل ِق َم ۔ َكارِ ُأِل َم ُأِلَت ِّمَم ُب ِعثْ ِإ ُت ِإنَّ َما َوال َّساَل ال َّص ُم۔ اَلةُ َعلَ َأ َكَما َقا َل ْي ِه َأْو ! صدر مجلس، معزز حکم حضرات، قاب ِل احترام اساتذۂ کرام، اور میرے عزیز ساتھیوں اور سامعین ِ محترم آج "انجمن نادیۃ االدب" کے اس تاریخی اور سحر انگیز مسابقے میں۔۔۔مجھے ایسے عنوان پر لب کشائی کا موقع مال ہے ۔۔۔ جو مقابلوں کا یہ سنسنی خیز اور اعصاب شکن ماحول۔۔۔ انسان کو صرف دو ہی صورتوں سے واسطہ پڑتا ہے۔۔۔ یا تو وہ کامیابی کا ہے۔۔۔ وہ ہے"جیت اور ہار دونوں میں اسالمی اخالق"۔ میرے عزیز دوستو! زندگی کا میدان ہو، ادب کا یہ ُپرجوش پلیٹ فارم ہو، یا ہماری رگوں میں دوڑتا ہوا ایک ایسا خون ہے ایک ایسا فلسفہ ہے ، جو انسانی غیرت اور کردار کی سب سے بڑی کسوٹی پرچم لہراتا ہے، یا پھر اسے عارضی ناکامی کا ذائقہ چکھنا پڑتا ہے۔ مگر سنو! کان کھول کر سنو! اسالم کا حسن یہ نہیں ہے کہ وہ تمہیں صرف اڑنا سکھائے، اسالم کا حسن تو یہ ہے کہ وہ تمہیں ہر طوفان میں اپنی زمین پر جمے رہنا سکھاتا ہے! وہ نہ تو جیت کی صورت میں انسان کو زمین سے اٹھا کر تکبر کے اندھے آسمان پر پھینکتا ہے، اور نہ ہی ہار کی صورت میں مایوسی کی اتھاہ گہرائیوں میں الوارث چھوڑتا ہے! اسالم کا اخالق وہ فوالدی ڈھال ہے، جو فتح کی چمک میں بھی تمہاری عاجزی کو !مٹنے نہیں دیتی اور شکست کے اندھیرے میں بھی تمہاری غیرت کا سودا ہونے نہیں دیتی عزیزا گرامی! ذرا اپنے دلوں کو تھام کر اس منظر کا تصور کیجیے! جب اس مسابقے کے میدان میں کسی ایک فرد کا نام پکارا ِن جاتا ہے، جب وہ کامیابی کا مستحق قرار پاتا ہے، اور جب اس کے سر پر فتح کا ہما بیٹھتا ہے۔۔۔ تو اس وقت اسالمی اخالق کی چٹان جیسی پکار کیا ہوتی ہے؟ کیا اس کا سر فخر سے تن جاتا ہے؟ کیا وہ دوسروں کو حقیر سمجھ کر مسکرانے لگتا ہے؟ نہیں! ڈھیر ہو جاتا ہے! وہ کائنات کے سامنے کھڑے ہو کر چیخ اٹھتا ہے کہ یہ کامیابی میری فصاحت، میرے علم یا میری طاقت کا خدا کی قسم، ہرگز نہیں! ایک سچے مومن کا سر فخر سے بلند نہیں ہوتا، بلکہ وہ اپنے رب کے حضور عاجزی کے مصلے پر قرآ مجید کے الفاظ فضاؤں کو چیرتے ہوئے گونجتے ہیں، جب ِن کمال نہیں، یہ تو صرف اور صرف میرے مالک کا کرم ہے! سیدنا سلیمان علیہ السالم نے اپنی بے پناہ، بے مثال سلطنت کو دیکھا تو پکار اٹھے: " ٰھَذا ِم ْن َف ْض ِل َرِّب ْی لَِیْبلَُوِن ْٓی َءاَ ْشکُ ُر اَ ْم اَ ْکفُ ُر"۔۔۔ کہ لوگو سن لو! یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری! سبحان ہللا! فتح جتنی بڑی ہو، فاتح اعظم، محمد رسول ہللا صلی ِ محس ِن انسانیت، تاریخ انسانی کا وہ معجزہ یاد کیجیے، جب ِ عاجزی اتنی ہی گہری ہونی چاہیے! سر مبارک اپنی اونٹنی کے کجاوے کو چھو رہا تھا! یہ ہے جیت کا وہ گرج دار اسلوب، جو اسالم ِ عاجزی کا یہ عالم تھا کہ آپ کا علیہ وآلہ وسلم مکہ میں داخل ہو رہے ہیں۔۔۔ تاریخ کے اوراق گواہی دیتے ہیں کہ آپ کے سر پر تکبر کا کوئی تاج نہیں تھا، بلکہ !ہمیں سکھاتا ہے کر لو! اسالم کی لغت میں ہار کا مطلب بزدلی، دشمنی، حسد یا زندگی کا خاتمہ نہیں ہے! ہار تو دراصل ایک نئے عزم کا، ایک کرنا پڑتا ہے۔۔۔ جہاں راتوں کی جاگی ہوئی آنکھیں اور دن کا بہایا ہوا پسینہ بظاہر ناکام نظر آتا ہے۔ لیکن سنو! اپنے دلوں پر نقش منصفی عظام! اب رخ بدلتے ہیں۔۔۔ اور بات کرتے ہیں اس سنگین موڑ کی جہاں انسان کو ہار کا سامنا ِن میرے محترم ساتھیو اور ال آزمائش ہوتی ٰ نئی شروعات کا، اور اپنی خامیوں کو ُچن ُچن کر ختم کرنے کا نام ہے! یہ ہللا رب العزت کی طرف سے ایک ہی قرآ پاک پکار پکار کر گرتے ہوئے انسانوں کو بازو سے ِن ہے تاکہ وہ انسان کے حوصلے اور اس کے فوالدی عزم کو پرکھے۔ الزما تمہیں ً ال َّصاب کہ ہم ِرِ َوَب ي َن"۔۔۔ ِّشرِ َوالثَّ َوا َمَرا ِت َأْلنفُ ِس ا َأْل ْمَوا ِل َو ِّمَن َنقْ َوال ٍص ْ ُجوعِ الْ ب ِّمَن َخْو ِف ِ "َول َش ْي ٍء ََنْبلَُونَّ ُك پکڑ کر اٹھاتا ہے: ْم خوف، بھوک، مالوں، جانوں اور پھلوں کے نقصان سے آزمائیں گے، اور اے حبیب! خوشخبری سنا دیجیے ان صبر کرنے والوں کو جو ٹوٹتے نہیں، جو جھکتے نہیں! ہللا اکبر! ایک سچا مسابق کبھی دل برداشتہ نہیں ہوتا، کیونکہ صاح ِب قرآن کی حدی ِث مبارکہ اس کے دل کو سکون دیتی ہے کہ: "مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے، اس کے ہر کام میں خیر ہے، اگر اسے خوشی )جیت( ملےتو وہ شکر کرتا ہے اور یہ اس کے لیے بہتر ہے، اور اگر اسے کوئی نقصان )ہار( پہنچے تو وہ صبر کرتا ہے اور یہ بھی اس "!کے لیے بہتر ہے حاضری مجلس! سچی اسالمی غیرت اور اخالق یہی ہے کہ جیتو تو عاجزی کا سمندر بن جاؤ، اور ہارو تو صبر و استقامت کا ِن میدا ادب کے ِن ہمالیہ بن جاؤ! نہ تمہارا شکر کم ہو، اور نہ تمہارا حوصلہ ٹوٹے! جو لوگ اصولوں پر قائم رہ کر ہارتے ہیں، وہ سچے سکندر ہوتے ہیں! ہمیں اس پلیٹ فارم پر مقابلوں کی روح کو زندہ رکھنا ہے، دلوں میں نفرتوں کے سانپوں کو نہیں پالنا! :کسی شاعر نے کیا دلوں کو گرما دینے واال نقشہ کھینچا ہے جھکتے ہیں جو اصولوں پہ وہ ہار کر بھی جیتے ہیں میدان میں گرنا تو مقدر ہے جری کا تکبر کی جو کچی مے ہے وہ نادان ہی پیتے ہیں ! میدا جنگ میں ِن گرتے ہیں شہسوار ہی آئیے۔ ہم سب مل کر عہد کریں کہ ہم زندگی کے ہر امتحان اور ہر مسابقے میں، چاہے کامیابی ہمارے قدم چومے، یا ناکامی کا طوفان سامنے ہو۔۔۔ ہم اپنے اسالمی اخالق کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑیں گے! ہماری جیت میں کسی کی تذلیل کا زہر نہ ہو، اور ہماری ہار میں کوئی بزدلی کا داغ نہ ہو! ہللا تعال ٰی ہمیں ہر حال میں صابر و شاکر رہنے اور اعل ٰی اخالق کا روشن مینار بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ !وما علینا اال البالغ۔۔۔ شکریہ